Gwadar: Sea Erosion has wrapped up an important road of Gwadar city (Fish Harbor Road), the most part of the said road has totally effected. If precautionary step would not be taken then waves enter into the populated area.
عبدالحلیم حیاتان یہ تصویر گْوادر میں موجود تاج محل سنیما کی عمارت کی ہے جو ماضی کے سنیما کے سنہرے دور کی یاد دلاتا ہے۔ کسی زمانہ میں گْوادر شہر میں تاج محل سنیما رونقوں کی بہار لے کر جاگتا رہا ہے۔ بڑے پردے کی یہ سنیما برسوں قبل گْوادر شہر کے فلم کے چاہنے والوں کے لئے غیر معمولی تفریح کا مرکز بنا رہا ہے جہاں ہر عمر کے افراد شام ڈھلتے ہی اِس سنیما کا رُخ کرتے تھے۔ بڑے پردے پر جب فلم لگتی تو فلم بین پوری انہماک سے فلم دیکھتے۔ تاج محل سنیما میں فلم بینوں کی بڑی تعداد کو سنیما تک رسائی کے لئے "دو ٹائم شو" کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ ہر شو میں فلم بینوں کا جوش و خروش دیدنی ہوتا۔ کہتے ہیں کہ گْوادر کی سنیما میں ایک روایت بھی رہی ہے اور وہ روایت یہ تھی کہ جب فلم چاہنے والوں کے پسندیدہ اداکار بڑے پردے پر جلوہ افروز ہوتے تو یہ فلم چاہنے والے پردے کے سامنے جاکر پردے پر سکے اور نوٹ نچاور کرکے اپنے اپنے پسندیدہ اداکاروں سے اپنی محبت کا اظہار کرتے۔ پاکستانی اُردو اور پنجابی زبانوں پر فلمائے گئے فلموں کو بڑے ذوق و شوق سے دیکھا جاتا تھا۔ اداکارہ انجمن کے ڈھمکوں پر ...
عبدالحلیم حیاتان نوجوان فوٹوگرافر طارق فیض کا تعلق گْوادر سے ہے۔ طارق فیض پیشے کے لحاظ سے آرکیٹکٹ ہیں۔ طارق فیض نے آرکیٹکٹ میں اپنی گریجویشن کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی لاہور سے حاصل کی ہے۔ لیکن اُن کا میلان فوٹو گرافی کی طرف بھی ہے۔ وہ اپنے کیمرے سے غیر معمولی تصاویر کیھنچ کر فریم کی زینت بناتے ہیں۔ آر سی ڈی کونسل گْوادر کے زیرِ اہتمام منعقد شدہ گْوادر کتاب میلے کے آٹھویں ایڈیشن میں طارق فیض کی فوٹو گرافی کی نمائش بھی آرٹ گیلری کی زینت بنے رہے جو سب کی توجہ کا مرکز بنا رہا تھا۔ طارق فیض نے اپنے فوٹوگرافی کے پروجیکٹ کو "بشنو" کے نام سے منسوب کرکے نمائش میں پیش کیا تھا۔ بشنو فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں "سنو"۔ بشنو کو مولانا رومی کی حکایت سے لیا گیا ہے۔ طارق فیض نے جن شخصیات کی تصاویر لی ہیں اُن میں زیادہ تر ادبی شخصیات شامل ہیں۔ طارق فیض سے جب پوچھا گیا کہ اُس نے اپنے پروجیکٹ کا نام "بشنو" کیوں رکھا ہے؟۔ تو اِس پر اُن کا جواب یہ تھا "بولنا ہر ایک کی عام فطرت میں شمار ہوتی ہے لیکن کسی کو سننا بھی چاہیئے۔ اِس لئے میں نے اپنے اِس پروجیکٹ کو ...
بلوچی سفرنامہ: اسحاق رحیم ترجمہ: عبدالحلیم حیاتان (نویں قسط) آسیاباد کے دینی مدرسہ "جامعہ رشیدیہ" پہنچنے کے بعد عارف حکیم نے اپنی گاڑی مدرسہ کے لائبریری کے سامنے روک دی۔ وہاں پر ایک نوجوان لڑکا ہمارے پاس آیا اور اس نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ نوجوان کے چہرے پر ہلکی سی دھاڑی نکلی ہوئی تھی کہنے لگا کہ میں شہید مفتی احتشام الحق کا بھتیجا اور مولانا ریاض الحق کا بیٹا ہوں۔ ہم نے اُس سے اپنا تعارف کرایا اور اپنے یہاں آنے کا مقصد بھی بیان کیا کہ ہمیں مدرسہ کی لائبریری دیکھنا ہے۔ اُس نے لائبریری کا دروازہ کھولا اور ہمیں اندر لے گیا۔ لائبریری کی عمارت گاڑے مٹی کی اینٹ سے بنایا گیا ہے۔ دوسری طرف مفتی احتشام الحق کا مدرسہ جامعہ رشیدیہ کے کمرے بنے ہوئے ہیں وہ بھی گاڈے مٹی کی اینٹ سے بنائے گئے ہیں۔ لائبریری کا کمرہ ایک وسیع کمرہ ہے جو آٹھ کمروں پر مشتمل ہے لیکن بیچ میں کوئی دیوار نہیں ڈالی گئی ہے۔ بس کتابوں کا سلسلہ ہے جو مختلف پورشن میں رکھے گئے ہیں۔ لائیبریری میں چلتے ہوئے میں اس قدر حیرانگی کا شکار ہوگیا کہ آسیاباد جیسے دور دراز علاقے میں بھی اتنی بڑی لائبریری قائم...
Comments
Post a Comment