Gwadar: Sea Erosion has wrapped up an important road of Gwadar city (Fish Harbor Road), the most part of the said road has totally effected. If precautionary step would not be taken then waves enter into the populated area.
عبدالحلیم حیاتان بلوچی موسیقی کا شعبہ خداداد صلاحیتوں کے حامل فنکاروں کی وجہ سے زرخیزیت کی عکاس ہے۔ بلوچی کا کلاسیکل موسیقی ہو یا جدید موسیقی، اِس نے ایک سے ایک نام پیدا کئے ہیں۔ اِن میں ایک نام اُستاد نورخان بزنجو کا بھی ہے۔ اُستاد نورخان بزنجو کا تعلق ادب اور فنونِ لطیفہ کے حوالے سے مکران کے مشہور ساحلی شہر پسنی سے ہے۔ پسنی کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس نے ادب، آرٹ اور فنِ موسیقی میں کئی نامور شخصیات کو جنم دیا ہے۔ ایک لحاظ سے پسنی کو چھوٹا لکھنو بھی کہتے ہیں۔ اُستاد نورخان بزنجو جوانی میں ہی فنِ موسیقی سے وابستہ ہوگئے تھے۔ اُنہوں نے موسیقی کا فَن کراچی میں اُستاد عمر سے سیکھا تھا۔ اُستاد نورخان بزنجو کو جدید بلوچی موسیقی کا منفرد گلوکار بھی کہا جاتا ہے۔ اُن کی منفرد طرز گائیکی کی وجہ سے جدید بلوچی موسیقی کو مزید فروغ ملا اور دیکھتے ہی دیکھتے بلوچی موسیقی میں گائیکی کا فَن پروان چڑھنے لگا۔ نورخان بزنجو نہ صرف ایک گائیک تھے بلکہ بلوچی فنِ موسیقی میں اُن کو اُستاد کا درجہ حاصل تھا۔ وہ ایک خداداد صلاحیتوں کے گائیک تھے۔ راگ اور ساز و آواز پر اُن کو مکمل عبور حا...
سفرنامہ بلوچی: اسحاق رحیم ترجمعہ: عبدالحلیم حیاتان (گیارہویں قسط) میں اور قدیر میری کے قلعہ پر گھوم رہے تھے۔ قلعہ پر ہم چاروں اطراف سے نظر آرہے تھے۔ جنوب کی طرف کیچ ندی واقع ہے۔ ندی کے اُس پار میری قلعہ کے سیدھ میں شاھی تُمپ کا قلعہ ہے۔ بہت سے محققین کا یہی خیال ہے کہ یہ دونوں قلعے ایک ہی حکمران کے تھے۔ کچھ کا خیال ہے اِن دونوں قلعے کے حکمران ایک دوسرے کے حریف تھے اِس لئے دونوں قلعے ایک ہی سمت میں آمنے سامنے واقع ہیں۔ میری قلعہ پر ابتدائی طور پر جس حاکم کی حکمرانی رہی ہے وہ ہمارے ہاں بلوچوں میں ھوت عالی کا دور کہا جاتا ہے جو کہ بارویں صدی کا زمانہ کہلاتا ہے۔ لہذا مکران کی تاریخ میں پہلی حکمرانی ھوت قبائل کی رہی ہے جس کے بارے میں مستند حوالے بھی موجود ہیں۔ مارکو پولو انسائیکلو پیڈیا آف بِرٹینکا میں تحریر کرتے ہیں کہ "کیچ میں بارویں صدی کے دور میں بلوچ قبائل موجود رہے ہیں جن میں ھوت قبیلہ سب سے زیادہ طاقتور تھا۔ ھوت عالی جو اپنے دور میں مَلِک عالی کے نام سے مشہور تھے اُن کی تاریخ کا معائنہ کریں تو وہ بارویں صدی کا زمانہ ہے۔ کیچ کے مَلِک عالی کے بیٹے پُنّوں ...
بلوچی سفرنامہ: اسحاق رحیم ترجمہ: عبدالحلیم حیاتان (نویں قسط) آسیاباد کے دینی مدرسہ "جامعہ رشیدیہ" پہنچنے کے بعد عارف حکیم نے اپنی گاڑی مدرسہ کے لائبریری کے سامنے روک دی۔ وہاں پر ایک نوجوان لڑکا ہمارے پاس آیا اور اس نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ نوجوان کے چہرے پر ہلکی سی دھاڑی نکلی ہوئی تھی کہنے لگا کہ میں شہید مفتی احتشام الحق کا بھتیجا اور مولانا ریاض الحق کا بیٹا ہوں۔ ہم نے اُس سے اپنا تعارف کرایا اور اپنے یہاں آنے کا مقصد بھی بیان کیا کہ ہمیں مدرسہ کی لائبریری دیکھنا ہے۔ اُس نے لائبریری کا دروازہ کھولا اور ہمیں اندر لے گیا۔ لائبریری کی عمارت گاڑے مٹی کی اینٹ سے بنایا گیا ہے۔ دوسری طرف مفتی احتشام الحق کا مدرسہ جامعہ رشیدیہ کے کمرے بنے ہوئے ہیں وہ بھی گاڈے مٹی کی اینٹ سے بنائے گئے ہیں۔ لائبریری کا کمرہ ایک وسیع کمرہ ہے جو آٹھ کمروں پر مشتمل ہے لیکن بیچ میں کوئی دیوار نہیں ڈالی گئی ہے۔ بس کتابوں کا سلسلہ ہے جو مختلف پورشن میں رکھے گئے ہیں۔ لائیبریری میں چلتے ہوئے میں اس قدر حیرانگی کا شکار ہوگیا کہ آسیاباد جیسے دور دراز علاقے میں بھی اتنی بڑی لائبریری قائم...
Comments
Post a Comment