Posts

بلوچی افسانہ: بیر گیر

Image
 بلوچی افسانہ: بیر گیر  تحریر:    یونس حسین مترجم:  عبدالحلیم حیاتان  دفتر پہنچتے ہی چپڑاسی نے مجھے اطلاع دی کہ ایک بوڑھا شخص گزشتہ ہر روز یہاں آکر آپ کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ کل پھر آئے۔ میں ہر روز اُس بوڑھے شخص کے آنے اور جانے کی بات دفتر میں سُن رہا تھا۔ اِس صورتحال نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا۔ پھر میں نے یہ ٹھان لی کہ میں وقتی دفتر  جاؤنگا۔ دفتر پہنچنے کے بعد زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ چپڑاسی نے اطلاع دی کہ وہ بوڑھا شخص آیا ہے۔ بوڑھا شخص دفتر میں داخل ہوتا ہے۔ میں اُسے پہچان گیا۔ میرا اِس بوڑھے شخص سے شناسائی کے پیچھے ایک درد بھری داستان وابستہ تھی۔ اُس کے پہناوے سے میں نے یہی اندازہ لگایا کہ یہ آجکل مالی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ اِدھر اُدھر دیکھنے کے بعد جب اُسے اطمنان ہوا کہ اس کی باتیں کوئی اور نہیں سن رہا ہے تو کہنے لگا "میں چار پانچ دن سے لگاتار آپ کے دفتر آرہا ہوں۔ بی بی ناز بہت شرمندہ ہیں۔ آپ سے ملنا چاہتی ہے"۔ بی بی کا نام سُنتے ہی میری طبعیت پر ناگواری گزرنے لگی، وہ بات کو آگے بڑھانے ہی والا تھا کہ میں نے اسے مزید بات کرنے...

تُمپ گوں ھَشیمیں گواتگِراں (آخری قسط)

Image
  بلوچی سفرنامہ: اسحاق رحیم  ترجمعہ: عبدالحلیم حیاتان  ہم دازن کے قصبے سے جنوب کی طرف تربت تا مند روڑ سڑک پر جاریے تھے۔ آگے کا علاقہ "آزیان" ہے۔ آزیان تمپ کا آخری گاؤں ہے۔ اِس گاؤں کے بعد پھر مند کا علاقہ شروع ہوتا ہے۔ آزیان کے لفظی معنی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ  "آپ زَیان" سے نکلا ہے۔ بنیادی طورپر یہ یہاں پر پانی کے کچھ "زئے" تھے۔ آپی زئے اس پانی کو کہتے ہیں جو پہاڑوں سے ہوکر زمین سے نکلتی ہے۔ یہاں پر ایک زمانے میں آپی زئے موجود تھا جس کی وجہ سے اِس جگہ کا نام آپ زیان پڑ گیا جو بعد میں بگڑ کر "آزیان" بن گیا۔   اِس علاقے کی موجودہ آبادی کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہاں کے لوگ بنیادی طورپر گومازی سے تعلق رکھتے ہیں جو وہاں سے نقل مکانی کرکے یہاں آکر آباد ہوگئے۔ آزیان کے لوگوں کے مطابق اِس علاقے کی اراضیات کی بنیادی ملکیت سردار مولداد گچکی کے پاس رہی تھی۔ میر مولداد گچکی نے یہ زمین انہی لوگوں کو دیئے تھے۔ یہاں پر معتبر شیرو نے ایک کاریز نکالی اور اپنے لوگوں کے ساتھ مل کر کاشت کاری شروع کی۔ لیکن اب کے زمانے میں یہ کاریز موجود نہیں جو طوفان کی وجہ سے...

تُمپ گوں ھَشیمیں گواتگِراں (تئیسویں قسط)

Image
  بلوچی سفرنامہ: اسحاق رحیم ترجمعہ: عبدالحلیم حیاتان  (تئیسویں قسط)  ہمیں تُمپ کا قلعہ دیکھنا تھا لیکن دوستوں نے بتایا کہ آج کل قلعہ پر سیکورٹی اداروں کا کیمپ قائم کیا گیا ہے جہاں داخلہ کی اجازت نہیں ہے۔ تاہم دنیا کے دیگر ممالک میں اِس طرح کے قلعہ اور دیگر ثقافتی ورثے کی حامل مقامات اور نشانیاں آثار قدیمہ کا حصہ بنائے گئے ہیں جن کو دیکھنے کے لئے دنیا بھر سے لوگ وہاں جاتے ہیں۔ لیکن افسوس ہم اپنے تاریخی اہمیت کی حامل مقامات اور نشانیوں کو دیکھنے سے قاصر ہیں۔  دازن:  ہم تُمپ دیکھنے کے بعد تُمپ سے مند کی طرف روانہ ہوئے۔ تُمپ سے مغرب کی سمت میں دازن کی آبادی واقع ہے۔ اِس گاؤں کے نام سے ظاہر ہے کہ یہاں پر داز یعنی مزری کے درخت کثرت سے اگتے تھے اِس لئے اِس گاؤں کا نام "دازن" پڑگیا۔ کہتے ہیں کہ اگر قدیم زمانے میں اگر کوئی تُمپ کے قلعہ پر کھڑے ہوکر اطراف کا نظارہ کرتا تو وہاں سے ہر طرف پھیلے ہوئے مزری کی درختوں کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔  دازن کی ندی پر آباد اِس گاؤں میں زمانہ قدیم سے لوگ آباد ہیں۔ اِس وقت دازن کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے اور یہ مشرق کی طرف پھیل کر تُمپ ...

تُمپ گوں ھَشیمیں گواتگِراں (بائیسویں قسط)

Image
  بلوچی سفرنامہ: اسحاق رحیم ترجمعہ: عبدالحلیم حیاتان  (بائیسویں قسط) نادرشاہ کے قتل کے بعد اُن کا بیٹا میر مولداد اپنے چچا پردل خان اور تیمور شاہ پر شک کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میر براھیم کے چچا زاد بھائی اور انکے بیوی کا بھائی میر دوست محمد بارکزئی پردل خان اور تیمورشاہ کی بہن کا شوہر ہے، اس لئے وہ شک کرتے ہیں کہ ان کے والد کے قتل میں ان کے چچاؤں کا ہاتھ ضرور ہوگا۔ میر پردل خان اور سردار نادرشاہ کے درمیان سرداری اور حد بندی پر تنازعہ بھی موجود تھا۔ پردل خان دریائے نہنگ کے اُس پار پل آباد بوستان میں سکونت پذیر تھے جبکہ نادرشاہ تمپ کے قلعہ میں تھے۔  پردل خان کا مطالبہ تھا کہ دریائے نہنگ کے اُس پار پل  آباد، کوھاڈ،  بوستان اور گومازی کے علاقوں پر میں سرداری کرونگا اور دریائے کے اِس پار تُمپ کی سرداری نادرشاہ کریں۔ لیکن نادرشاہ اِس مطالبے کو نہیں مانتے اور پردل خان پر واضح کرتے ہیں کہ سرداری کا حق دار وہ ہے کیونکہ وہ اُس کا بڑا بھائی ہے۔ جب دوست محمد بارکزئی پردل خان اور نادر شاہ کی بہن فاطمہ سے شادی کرتے ہیں تو اِس رشتے کے بعد پردل خان اور طاقتور بن جاتے ہیں۔ دو...

تُمپ گوں ھَشیمیں گواتگِراں (اکیسویں قسط)

Image
  بلوچی سفرنامہ: اسحاق رحیم ترجمعہ: عبدالحلیم حیاتان  (اکیسویں قسط)  اُس وقت جب میر بہرام خان گومازی اور تُمپ پر حملے کرتے ہیں تو اُن کا لشکر دو حصوں میں ہوتا ہے۔ لشکر کا ایک حصہ دشت کی طرف چلا جاتا ہے۔ دشت میں لشکر کی سربراہی میر براھیم میر مرادزئی کرتے ہیں. میر ابراھیم بارانزئی کا قریبی رشتہ دار تھا۔ دونوں کے دادا آپس میں بھائی تھے۔ دشت کے لشکر میں میر براھیم میر مرادزئی، شہسوار، یار محمد زئی اور پیری درویش آھُرّانی بھی شامل ہوتے تھے۔ یہ لشکر امین کے قتل کے بعد جب دشت میں داخل ہوتا ہے تو بہت لوٹ مار مچاتا ہے، لوگوں کو تنگ کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کو اٹھاکر اپنے ساتھ لیجاتے ہیں۔ شہسوار ایک عورت کو بھی اغواکرتا ہے۔ جب لشکر دشت میں لوٹ مار کرنے کے بعد واپس ہوتا ہے تو وہ دیکھتے ہیں کہ بہرام خان نے گچکیوں سے صلح کی ہے۔ جاتے ہوئے میر بہرام خان کو پتہ چلتا ہے کہ شہسوار کے اونٹوں پر لدے ہوئے سامان کی بڑی ٹوکریوں میں سے ایک ٹوکری میں ایک عورت کو بھی اغواء کرکے ساتھ لیجارہے ہیں۔ تب میر بہرام خان شہسوار کے اِس عمل پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں۔ میر بہرام خان عورت کو پشین اور م...

تُمپ گوں ھَشیمیں گواتگِراں (بیسویں قسط)

Image
  بلوچی سفرنامہ: اسحاق رحیم ترجمعہ: عبدالحلیم حیاتان  (بیسویں قسط) تُمپ کے سردار نادرشاہ کے قتل کا پَس منظر کہانی: میر مراد گچکی کے بعد اُنکے بیٹے نادرشاہ گچکی تُمپ کے حکمران بن جاتے ہیں۔ نادرشاہ 6 اکتوبر 1921 کو آدھی رات میں نھنگام کے حاکم میر براھیم خان باران زئی کے ہاتھوں اپنے قلعہ میں اپنے دو بیٹیوں اور ایک محافظ سمیت مارے جاتے ہیں۔ میر براھیم اور سردار نادرشاہ کے درمیان لڑائی کی بنیاد گچکی حکمرانوں اور باران زئی قبیلے کے درمیان موجود تنازعہ بہت ہی پرانا  ہوتا ہے اور یہ تنازعہ روز بروز بڑھتا چلا گیا۔ گچکیوں اور باران زئی قبیلے کے درمیان تنازعہ اس وقت شروع ہوتی ہے جب 1971 میں گولڈ اسمتھ لائن انگریز اور ایرانی گجر حکمرانوں کے درمیان باہمی رضا مندی کے بعد تعمیر کی جاتی ہے۔ انگریز اور ایرانی رجیم بلوچستان کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ مغربی بلوچستان میں مکران کے بیشتر حصے پر بارانزئی قبیلے کی حکمرانی ہوتی ہے۔ بارانزئی انگریز اور ایرانی رجیم کے سخت ناقد ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو بلوچستان کے حکمران سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف مشرقی بلوچستان کی حکمرانی خان قلات کے پاس ہوتی ہے۔ خان ...

تُمپ گوں ھَشیمیں گواتگِراں (انیسویں قسط)

Image
  بلوچی سفرنامہ: اسحاق رحیم ترجمعہ: عبدالحلیم حیاتان  (انیسویں قسط)   1873 میں انگریز پولیٹیکل ایجنٹ ایس بی مائلز اپنے مکران کے دورے کے موقع پر تُمپ کی منظر کشی اِس طرح سے کرتے ہیں:   "جب میں 22 اکتوبر کو پِٹّوک سے تُمپ کے پہاڑ کے دامن پر پہنچا تو یہ کھجوروں کا شہر تھا۔ کھجوروں کو دریائے نہنگ سے پانی دیکر آباد کیا جاتا ہے۔ میں نے قلعہ کے قریب  بھی کجھوروں کے درخت دیکھے۔ چھ گھنٹے کے انتظار کے بعد ہمارا سامان اونٹوں سے تُمپ پہنچائے گئے۔ ہمارا سامان ہم تک کُلاھو کے راستے سے پہنچائے گئے تھے۔ تُمپ اور نگور کے سربراہ میر مراد گچکی میرے پاس آئے اور اُنہوں نے بلوچی رسم و رواج کے مطابق میری مہمان نوازی کی۔ میر مراد بہت ہی ذہین اور قابل شخص تھے۔ اُن کا وزیر واجداد بھی انکے ہمراہ تھے۔ واجداد پہلے سے میرا جاننے والا تھا۔   میں نے میر مراد کو پرشئین باؤنڈرآنسی کے فوائد کے بارے میں بتایا کہ یہ باؤنڈری برطانیہ سے صلاح و مشورہ کے بعد مکمل کیا جائے گا۔ میں نے میر مراد گچکی کو یہ بھی بتایا کہ وہ بلوچوں کو سمجھائیں کہ وہ پرشئین علاقے یعنی ایران کی سرزمین میں مد...